بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا رہ تو گئی فریب مسیحا کی آبرو ہر چند غم کے ماروں کا چارہ نہ ہو سکا خوش ہوں کہ بات شورش طوفاں کی رہ گئی اچھا ہوا نصیب کنارا نہ ہو سکا بے چارگی پہContinue reading “بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا”